Music images Downloads islam History Calender News Health Science Dictionary webmail

مشرکانہ عقائد کے مسائل | سائنسی مسائل | قبولِ اسلام کرنے والی اہم شخصیات | تاریخ
Audios---> A B C D E F G H I J K L M N O P Q R S T U V W X Y Z
results - 2012-11-17
Dir Name
Dirs searched = 0 Files searched = 0 Files matched = 0 Occurances = 0
There are currently 11 answered, and 0 unanswered questions.




Prev · [1] 2 · Next

اوم پر کاش نیّر، لدھیانوی نے پوچھا
مسلمان ہمیں کافر کہتے ہیں تو پھر قبر پرستی کیوں کرتے ہیں؟ یہ نظم بھی پڑھیں http://momeen.blogspot.com/2011/08/ghair-muslim-ki-faryad-muslim-qaum-ke.html
Asked: 08th May, 13 | Answered: 19th May, 13 الجواب
جھوٹ بولنا گناہ ہے مگر وہابیوں کے مذہب میں جھوٹ جائز ہے ، آپ نیٹ سے کہیں سے بھی سرچ کر کے دیکھیں اوم پر کاش نیّر، لدھیانوی کا کوئی ہندو شاعر ہے ہی نہیں ، وہابیوں نے خود یہ نظم لکھ کے اپنے ہندو ہونے کا اعتراف کر لیا ہے

شمس نے پوچھا
کیا قبروں پر جانا بھی شرک ہے ؟
Asked: 08th May, 13 | Answered: 19th May, 13 الجواب
کوئی نبی علیہ السلام نبوت ملنے سے پہلے بھی شرک نہیں کر سکتا، حضورعلیہ السلام نبوت ملنے سے پہلے خانہ کعبہ جاتے تھے اور وہاں تین سو ساٹھ بت پڑے تھے، اس کا معنی ہے کہ بت خانے میں جانا بھی شرک نہیں ہے تو مزارات پر جانا شرک کیسے ہو سکتا ہے

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنفسِ نفیس شہداء اور صالحین کی قبور پر تشریف لے جا کر دعا فرمائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع میں حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنھم کا بھی یہ معمول رہا۔ جس سے ثابت ہوا کہ اولیاء کی قبور پر جانا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین کی سنت ہے۔ ائمہِ حدیث و تفسیر مثلاً امام عبدالرزاق، امام طبری، امام سیوطی اور امام ابنِ کثیر وغیرہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول بیان کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر سال شہداء کی قبور پر تشریف لے جاتے تھے۔ امام عبدالرزاق (م 211ھ) نے بیان کیا ہے :

حضرت محمد بن ابراہیم التیمی سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سال کے آغاز میں شہداء کی قبروں پر تشریف لاتے تھے اور فرماتے : تم پر سلامتی ہو تمہارے صبر کے صلہ میں آخرت کا گھر کیا خوب ہے۔ روای نے کہا : حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنھم بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔

1. عبدالرزاق، المصنف، 3 : 573

2. عيني، عمدة القاري، 8 : 70

امام طبری (م 310ھ) نے اسی روایت کو اپنی تفسیر جامع البیان فی تفسیر القرآن (13 : 142) میں، امام سیوطی (م 911ھ) نے اپنی تفسیر (الدرالمنثور فی التفسیر بالماثور (4 : 641) میں اور امام ابنِ کثیر (م 774ھ) نے تفسیر القرآن العظیم (2 : 512) میں بیان کیا ہے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا : چلو حضرت اُم ایمن کی زیارت کرکے آئیں جس طرح رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی زیارت کے لئے تشریف لے جاتے تھے۔

1. مسلم، الصحيح، فضائل الصحابة، باب من فضائل أم أيمن، 4 : 1907، رقم : 2454

2. ابن ماجة، کتاب الجنائز، باب ذکر وفاته ودفنه، 1 : 523، رقم : 1635

3. أبو يعلي، المسند، 1 : 71، رقم : 69

مذکورہ حدیث کی شرح میں امام نووی (م 676ھ) لکھتے ہیں :

اس حدیثِ مبارکہ میں صالحین کی زیارت اور اس کی فضیلت کا بیان ہے۔ اسی طرح کسی صالح شخص کا (مقام و مرتبہ کے لحاظ سے) اپنے سے کم درجہ شخص کی ملاقات کے لیے جانا، کسی انسان کا اپنے دوست احباب کی زیارت کرنا، مردوں کا باجماعت کسی نیک اور صالح خاتون کی ملاقات اور اس کی گفتگو سننا، اسی طرح کسی عالم اور بزرگ کا اپنے دوست کو زیارت و ملاقات اور عیادت وغیرہ کے لئے اپنے ساتھ لے جانا، صالحین اور دوست و احباب کی مفارقت پر غمگین ہونا اور رونا اگرچہ وہ اونچے درجے کی طرف منتقل ہوگئے ہوں (بھی اس حدیثِ مبارکہ سے) ثابت ہے۔

نووي، شرح النووي علي صحيح مسلم، 16 : 9. 10

کیا آپ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضۂ اقدس کی زیارت اور فیوض و برکات حاصل کرنے کے لیے میرے ساتھ مدینہ منورہ چلیں گے؟ تو انہوں نے کہا : جی! امیر المؤمنین۔

پھر جب حضرت کعب الاحبار اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ آئے تو سب سے پہلے بارگاہِ سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضری دی اور سلام عرض کیا، پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مدفن مبارک پر کھڑے ہوکر اُن کی خدمت میں سلام عرض کیا اور دو رکعت نماز ادا فرمائی۔

1. واقدي، فتوح الشام، 1 : 244

2. هيتمي، الجوهر المنظم : 27. 28

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کا معمول تھا کہ آپ اکثر روضہ مبارک پر حاضر ہوا کرتی تھیں۔ وہ فرماتی ہیں :

میں اس مکان میں جہاں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور میرے والد گرامی مدفون ہیں جب داخل ہوتی تو یہ خیال کرکے اپنی چادر (جسے بطور برقع اوڑھتی وہ) اتار دیتی کہ یہ میرے شوہرِ نامدار اور والدِ گرامی ہی تو ہیں لیکن جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ دفن کر دیا گیا تو اللہ کی قسم میں عمر رضی اللہ عنہ سے حیاء کی وجہ سے بغیر کپڑا لپیٹے کبھی داخل نہ ہوئی۔

1. أحمد بن حنبل، المسند، 6 : 202

2. حاکم، المستدرک، 3 : 61، رقم : 4402

3. مقريزي، اِمتاعُ الاسماع، 14 : 607

اس حدیثِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کا روضۂ اقدس پر حاضری کا ہمیشہ معمول تھا۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما کے آزاد کردہ غلام نافع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ابنِ عمر رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ جب بھی سفر سے واپس لوٹتے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضۂ اقدس پر حاضری دیتے اور عرض کرتے :

السّلام عليک يا رسول اﷲ! السّلام عليک يا أبا بکر! السّلام عليک يا أبتاه!

اے اللہ کے (پیارے) رسول! آپ پر سلامتی ہو، اے ابوبکر! آپ پر سلامتی ہو، اے ابا جان! آپ پر سلامتی ہو۔

1. عبدالرزاق، المصنف، 3 : 576، رقم : 6724

2. ابن أبي شيبة، المصنف، 3 : 28، رقم : 11793

3. بيهقي، السنن الکبريٰ، 5 : 245، رقم : 10051

قاضی عیاض نے الشفاء (2 : 671) میں جو روایت نقل کی ہے اس میں ہے کہ حضرت نافع رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما کو سو (100) سے زائد مرتبہ قبرِ انور پر حاضری دیتے ہوئے دیکھا، اور مقریزی نے بھی اِمتاع الاسماع (14 : 618) میں یہی نقل کیا ہے۔ ابن الحاج مالکی نے المدخل (1 : 261) میں اِس کی تائید کی ہے۔

علاوہ ازیں ابنِ حجر مکی نے الجوہر المنظم (ص : 28) اور زرقانی نے شرح المواہب اللدنیۃ (12 : 198) میں اس روایت کو نقل کیا ہے۔

حضرت عبداﷲ بن دینار بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما کو دیکھا کہ جب سفر سے واپس لوٹتے تو مسجدِ (نبوی) میں داخل ہوتے اور یوں سلام عرض کرتے :

السّلام عليک يا رسول اﷲ! السّلام علي أبي بکر! السّلام علي أبي.

اے اللہ کے (پیارے) رسول! آپ پر سلام ہو، ابوبکر پر سلام ہو (اور) میرے والد پر بھی سلام ہو۔

اس کے بعد حضرت عبداﷲ بن عمر دو رکعات نماز ادا فرماتے۔

1. ابن إسحاق أزدي، فضل الصّلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم : 90. 91، رقم : 97 - 98

2. ابن حجر عسقلانی نے المطالب العالیۃ (1 : 371، رقم : 1250) میں عمر بن محمد کی اپنے والد سے نقل کردہ روایت بیان کی ہے اور اس کی اسناد صحیح ہیں۔

حضرت ابو اُمامہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک پر آتے دیکھا، انہوں نے (وہاں آ کر) توقف کیا، اپنے ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ شاید میں نے گمان کیا کہ وہ نماز ادا کرنے لگے ہیں۔ پھر انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں سلام عرض کیا، اور واپس چلے آئے۔

1. بيهقي، شعب الإبمان، 3 : 491، رقم : 4164

2. قاضي عياض، الشفاء، 2 : 671

3. مقريزي، اِمتاع الأسماع، 14 : 618

اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم فقط بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سلام عرض کرنے کا شرف حاصل کرنے کے لئے بھی مسجدِ نبوی میں آتے تھے۔

حضرت داؤد بن صالح سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز خلیفہ مروان بن الحکم روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے دیکھا کہ ایک آدمی حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور پر اپنا منہ رکھے ہوئے ہے۔ مروان نے اسے کہا : کیا تو جانتا ہے کہ تو یہ کیا کر رہا ہے؟ جب مروان اس کی طرف بڑھا تو دیکھا کہ وہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ ہیں، انہوں نے جواب دیا :

نَعَمْ، جِئْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم وَ لَمْ آتِ الْحَجَرَ.

ہاں (میں جانتا ہوں کہ میں کیا کر رہا ہوں)، میں اﷲ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا ہوں کسی پتھر کے پاس نہیں آیا۔

1. أحمد بن حنبل، المسند، 5 : 422

2. حاکم، المستدرک، 4 : 560، رقم : 8571

3. طبراني، المعجم الکبير، 4 : 158، رقم : 3999

امام احمد بن حنبل کی بیان کردہ روایت کی اِسناد صحیح ہیں۔ امام حاکم نے اسے شیخین (بخاری و مسلم) کی شرائط پر صحیح قرار دیا ہے جبکہ امام ذہبی نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔

درج بالا علمی تحقیق سے ثابت ہوا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں اور بعد از وصال صحابہ کرام رضی اللہ عنھم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کے لئے حاضری دیا کرتے تھے۔ اُن کا حاضری دینے کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ وہ آقا علیہ السلام کی حیات اور بعد از وصال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیوضات و برکات سے مستفید ہوں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے بعد جمیع امتِ مسلمہ کا بھی یہ معمول رہا ہے کہ وہ تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضۂ اطہر پر حاضری دینے کو اپنے لئے باعثِ سعادت و خوش بختی سمجھتی ہے۔

وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُواْ أَنفُسَهُمْ جَآؤُوكَ فَاسْتَغْفَرُواْ اللّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُواْ اللّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًاO

اور (اے حبیب!) اگر وہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاتے اور اللہ سے معافی مانگتے اور رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) بھی ان کے لیے مغفرت طلب کرتے تو وہ (اِس وسیلہ اور شفاعت کی بناء پر) ضرور اللہ کو توبہ قبول فرمانے والا نہایت مہربان پاتے

النساء، 4 : 64

9 نے پوچھا
حدث میں ہے کہ مسجدِ حرام، مسجدِ نبوی اور مسجدِ اقصیٰ کے سوا کسی (اور مسجد ) کی طرف (زیادہ ثواب کے حصول کی نیت سے) سفر نہ کیا جائے پھر مزاروں کی طرف جانا کیسے جائزہے؟
Asked: 08th May, 13 | Answered: 19th May, 13 الجواب
اس روایت کی صحیح تشریح و تعبیر اَجل اَئمہ حدیث کے اَقوال کی روشنی میں پیش ہے جس سے حدیث پاک کا صحیح مفہوم و مدعا واضح ہو جائے گا :

1.حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إلَّا إلَي ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ : الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِ الرَّسُوْلِ صلي الله عليه وآله وسلم، وَمَسْجِدِ الْأَقْصٰي.

مسجدِ حرام، مسجدِ نبوی اور مسجدِ اقصیٰ کے سوا کسی (اور مسجد ) کی طرف (زیادہ ثواب کے حصول کی نیت سے) رَختِ سفر نہ باندھا جائے۔

1. بخاري، الصحيح، کتاب الجمعة، باب فضل الصلاة في مسجد مکة والمدينة، 1 : 398، رقم : 1132

2. مسلم، الصحيح، کتاب الحج، باب لاتشد الرحال إلا إلي ثلاثة مساجد، 2 : 1014، رقم : 1397

3. نسائي، السنن، کتاب المساجد، باب ما تشد الرحال إليه من المساجد، 2 : 29، 30، رقم : 700

2۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث اِن الفاظ کے ساتھ بھی مروی ہے :

لَا تُعْمَلُ الْمَطِيُ إِلَّا إِلَي ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ : الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِي، وَمَسْجِدِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ.

(زیادہ ثواب کے حصول کی نیت سے) تین مساجد کے سوا کسی مسجد کی طرف سفر نہ کیا جائے : مسجدِ حرام، میری مسجد اور مسجد بیت المقدس۔

بعض کتب میں مسجد بیت المقدس کی جگہ مسجد ایلیاء کے الفاظ بھی آئے ہیں۔

1. نسائي، السنن، کتاب الجمعة، باب ذکر الساعة التي يستجاب فيها الدعاء يوم الجمعة، 3 : 79، رقم : 1430

2. نسائي، السنن الکبريٰ، 1 : 540، رقم : 1754

3. مالک، الموطأ، 1 : 109، رقم : 241

2. طبرانی نے المعجم الاوسط (6 : 51، 52، رقم : 5106) میں یہ حدیث اِن الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے :

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَي ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ : مَسْجِدِ الخَيْفِ، وَمَسْجِدِ الْحَرَامِ، مَسْجِدِي هَذَا.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تین مسجدوں یعنی مسجدِ خیف، مسجدِ حرام اور میری اِس مسجد کے سوا کسی (اور مسجد) کی طرف (زیادہ ثواب کے حصول کی نیت سے) رَختِ سفر نہ باندھا جائے۔

طبرانی کہتے ہیں کہ کلثوم بن جبر سے یہ حدیث حماد بن سلمہ کے سوا کسی نے روایت نہیں کی اور اِس حدیث کے سوا کسی اور حدیثِ شَدُ الرِّحال میں مسجدِ خیف کا ذکر بھی نہیں ہے۔

3. حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث اِن الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے :

وَ لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَي ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ : مَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِ الْأَقْصَي، وَمَسْجِدِيْ.

تین مسجدوں یعنی مسجدِ خیف، مسجدِ حرام اور میری مسجد کے سوا کسی (اور مسجد ) کی طرف (زیادہ ثواب کے حصول کی نیت سے) رَختِ سفر نہ باندھا جائے۔

1. بخاري، الصحيح، کتاب الجمعة، باب مسجد بيت المقدس، 1 : 400، رقم : 1139

2. مسلم، الصحيح، کتاب الحج، باب سفر المرأة مع محرم إلي حج وغيره، 2 : 976، رقم : 1338

3. ترمذي، السنن، کتاب الصلاة، باب ما جاء في أي المساجد أفضل، 1 : 358، رقم : 326

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مندرجہ بالا اِرشادات کو بنیاد بنا کر بعض لوگ انبیاء و صالحین کے قبور کی زیارت حتیٰ کہ حضور سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضۂ اَطہر کی بہ غرضِ زیارت حاضری کو بھی ناجائز اور (معاذ اﷲ) شرک گردانتے ہیں۔ جبکہ اکابر علمائے ربانیین اور محدّثین و مفسرینِ کرام نے اِس اِستدلال کو غلط اور کج فہمی قرار دیا ہے۔ اُنہوں نے اپنی معتبر کتب میں نہایت شرح و بسط کے ساتھ اس حدیث کا صحیح مطلب بیان کیا ہے۔ اِس کی روشنی میں دین کا معمولی سا فہم رکھنے والا شخص بھی سمجھ سکتا ہے کہ جو لوگ اس حدیث مبارکہ سے استدلال کرتے ہوئے اَنبیاء و صالحین کے مزارات کی زیارت کے سفر سے منع کرتے ہیں اور اِسے سفرِ معصیت و گناہ کہتے ہیں وہ بلاشبہ صریح غلطی پر ہیں اور اُن کا اِستدلال کسی بھی طرح لائقِ التفات نہیں۔

ان احادیثِ مبارکہ میں اِستثناء کے حوالے سے دو اَقوال ہیں :

ایک یہ کہ اِستثناء مطلق یعنی عمومیت پر مبنی ہو۔ جس سے ہر قسم کا سفر ناجائز قرار پائے گا اور یہ بات خلافِ عقل و خلافِ شرع ہے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ اِستثناء مقید ہو یعنی محض مساجد سے مختص ہو، جس کا مطلب یہ ہے کہ نماز کا زیادہ ثواب حاصل کرنے کی نیت سے سوائے اِن تین مساجد کے کسی اور مسجد کی طرف سفر نہ کیا جائے اور یہی قول صحیح ہے۔

2. حدیثِ مبارکہ میں لا تُشَدُّ الرِّحال کے فوراً بعد الا الی ثلاثۃ مساجد مذکور ہے۔ اہلِ لغت کے معروف اُسلوب کے مطابق جس جملہ میں مستثنیٰ (جسے اِستثناء حاصل ہو) اور مستثنیٰ منہ (جس سے اِستثناء کیا گیا ہو) دونوں پائے جاتے ہوں تو نحوی قاعدہ یہ ہے کہ مستثنیٰ حرفِ اِستثناء کے بعد اور مستثنیٰ منہ حرفِ اِستثناء سے پہلے ہوگا اور وُجوداً یا تقدیراً مستثنیٰ اور مستثنیٰ منہ دونوں کا پایا جانا ضروری ہو گا۔

مذکورہ حدیث میں إِلاَّ حرفِ اِستثناء ہے، ثلاثۃ مساجد مستثنیٰ ہے۔ قاعدہ کی رُو سے إِلاَّ کے بعد ثلاثۃ مساجد تو مذکور ہے لیکن مستثنیٰ منہ مذکور نہیں، جو إِلاَّ سے پہلے پایا جانا تھا لہٰذا جہاں ایسی صورت ہو کہ مستثنیٰ مذکور ہو مگر مستثنیٰ منہ کا لفظی ذکر نہ ہو تو وہاں مستثنیٰ منہ مقدّر مانا جائے گا۔ اِس صورت میں مقدّر مستثنیٰ منہ کے تعین کے تین اِحتمالات ہو سکتے ہیں :

اِس حدیث سے سفرِ زیارت کی ممانعت کا اِستدلال کرنے والوں کے مسلک کے مطابق اگر مستثنیٰ منہ لفظ قبر کو فرض کریں تو حدیث کی عبارت تقدیری اِس طرح ہوگی : لَا تُشَدُّ الرِّحال الی قبر الا الی ثلاثۃ مساجد سوائے تین مساجد کے کسی قبر کی طرف رَختِ سفر نہ باندھا جائے۔ یہاں لفظ قبر ایسی بے بنیاد تعبیر ہے جو نہ سیاقِ کلام کے مطابق ہے اور نہ ہی اُسلوبِ بیان و زباں کے لائق. عربی زبان سے تھوڑی سی واقفیت رکھنے والا شخص بھی یہ غیر معتبر اور غیر معقول اُسلوب قبول نہیں کرسکتا، چہ جائیکہ اِس کی نسبت اَفصحُ العرب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کی جائے لہٰذا ضابطہ کے خلاف لفظ قبر کو مستثنیٰ منہ بنانا ہرگز درست نہیں۔

دوسرا اِحتمال. . . اگر مستثنیٰ منہ مکان کو مانا جائے

اگر مکان کو مستثنیٰ منہ فرض کیا جائے تو حدیث کی عبارت تقدیری یوں ہوگی :

لَا تُشَدُّ الرِّحال الی مکان الا الی ثلاثۃ مساجد (سوائے تین مساجد کے کسی اور مقام کی طرف رَختِ سفر نہ باندھا جائے)۔ اِس کا مطلب یہ ہو گا کہ تعلیم، تجارت اور کسی بھی کارِ خیر کے لئے سفر کرنا ممنوع ہے، حالانکہ اِن اُمورِ خیر کے لئے سفر کی ممانعت باطل اور غیر معقول ہے۔ مطلق سفر کی کہیں بھی ممانعت نہیں اور نہ ہی ایسا کوئی مفہوم حدیث مذکور کی طرف منسوب کیا جا سکتا ہے۔ یہ مفہوم نہ صرف غیر شرعی ہو گا بلکہ بے شمار احکام اسلامی اور مصالح دینی سے متصادم ہو گا۔ سو یہ صورت تقدیری بھی قبول نہیں کی جا سکتی، اس لئے کہ

1. حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود تجارت کے لئے سفر کیا اور متعدد اسفار کے ذریعے غزوات میں شرکت فرمائی۔

2. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق دین سیکھنے اور سکھانے کے لئے ہمیشہ محوِ سفر رہے اور اُنہوں نے دور دراز علاقوں تک دین پہنچایا۔

3. ائمہ و بزرگانِ دین تحصیلِ علم اور بیعت و اِرادت کے لئے سفر کرتے رہے۔ آج بھی لوگ حصولِ علم، تجارت اور دیگر اُمور کی بجا آوری کے لئے ایک شہر سے دوسرے شہر اور ایک ملک سے دوسرے ملک سفر کرتے ہیں۔

اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کتنے ہی سفر ہیں جو ہم روزانہ کرتے ہیں۔ اگر ہر سفر ممنوع قرار دیا جائے تو زندگی کا نظام معطل ہو کر رہ جائے گا، جو کہ قانونِ فطرت کے خلاف ہے۔

تیسرا اِحتمال. . . اگر مستثنیٰ منہ بھی مسجد ہی کو مانا جائے

یہ اِستثناء مفرغ ہے۔ اس میں مستثنیٰ اور مستثنیٰ منہ کا جنسِ واحد سے ہونا ضروری ہوتاہے، جیسا کہ کلامِ عرب میں ہے :

ما جاء نی الا زید (میرے پاس سوائے زید کے کوئی نہیں آیا)۔

اِس کا مطلب یہ ہے کہ میرے پاس سوائے زید کے کوئی شخص یا انسان نہیں آیا۔ اگر پرندہ یا کوئی جانور آیا ہو تو کلام غلط نہ ہوگا کیونکہ مستثنیٰ منہ پرندہ یا جانور نہیں بلکہ انسان ہے۔ وجہ یہ ہے کہ زید بھی انسان ہے، اس لئے ایک ہی جنس سے ہونے کی وجہ سے مفہوم واضح اور درست ہو جائے گا لہٰذا درست بات یہی ہے کہ اِس حدیث میں بھی عربی کے اُسلوب اور قاعدہ کی رُو سے تقدیر لفظ مسجد ہی ہو، یعنی جسے مستثنیٰ ٹھہرایا جا رہا ہے مستثنیٰ منہ بھی وہی جنس ہو۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر جواز کے لئے اِستثناء مساجد کا کیا جا رہا ہے تو ممانعت بھی بقیہ مساجد ہی کی طرف منسوب ہوگی، نہ کہ دیگر اُمور اور مقاصد کی طرف۔ پس اب حدیث کی تقدیراً عبارت یوں ہوگی :

لَا تُشَدُّ الرِّحال إلي مسجد إلّا إلي ثلاثة مساجد.

سوائے تین مساجد کے کسی اور مسجد کی طرف (ثواب کی زیادتی کی نیت سے) رختِ سفر نہ باندھا جائے۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اِرشاد کا واضح مطلب یہ ہے کہ مسجدِ حرام، مسجدِ اقصیٰ اور مسجدِ نبوی میں نماز پڑھنے کی فضلیت چونکہ زیادہ ہے اور باقی مساجد نماز پڑھنے کی فضیلت اور ثواب میں برابر ہیں اس لئے ان تینوں مسجدوں کے علاوہ کسی اور مسجد میں ثواب کی زیادتی کی نیت سے سفر کی زحمت برداشت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اس جگہ زیادتی ثواب پر کوئی شرعی دلیل مذکور نہیں۔

متذکرہ بالا احادیث کا صحیح مطلب اجل ائمہِ حدیث نے بیان کیا ہے اور اس پر اپنی تحقیق کی ہے۔

1. قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق

ابتدائے اسلام سے لے کر آج تک مدینہ طیبہ مخلص مؤمنین کا مرجع رہا ہے اور تاقیامت رہے گا۔ اس حوالے سے قاضی عیاض (544ھ) نے اس حدیثِ مبارکہ کی بڑی ایمان افروز تشریح کی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان مدینہ کی طرف لوٹے گا۔ امام نووی اور دیگر شارحین حدیث نے ان کا قول نقل کیا ہے۔ شرح نووی میں ہے :

قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے کہا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی کے ایمان مدینہ طیبہ کی طرف لوٹے گا، کا معنی ہے کہ ایمان کی ابتداء میں یہ صفت تھی اور آخر زمانہ میں بھی یہی صفت رہے گی کیونکہ ابتدائے اسلام میں ہر وہ شخص جس کا ایمان خالص ہوتا اور اسلام صحیح ہوتا، وہ مدینہ طیبہ آتا یا تو مہاجر بن کر مدینہ طیبہ کو اپنا وطن بناتا اور یا دیدارِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شوق میں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سیکھنے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قربت کے حصول کے لیے۔ بعد ازاں خلفاء راشدین کے دور میں بھی اہلِ ایمان کا یہی معمول رہا تاکہ وہ ان سے عدل کا درس لیں اور جمہور صحابہ کا اقتداء بھی یہیں پر ہوتا تھا۔ پھر دورِ خلافت کے بعد وہ علماء جو اپنے وقت کے چراغ اور ہدایت کے امام تھے ان سے بکھری ہوئی سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اخذ کرنے کیلئے اہلِ ایمان آتے رہے۔ پس ہر مومن جو ایمان پر ثابت قدم تھا اور جسے شرح صدر نصیب تھا وہ مدینہ طيّبہ کی طرف سفر کرتا۔ پھر ان علماء کے دور کے بعد آج تک ہر دور میں لوگ قبرِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشاہد آثار اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے آثار سے تبرک حاصل کرنے کے لئے آتے رہے، پس مدینہ طيّبہ وہی شخص آتا ہے جو سچا مومن ہوتا ہے۔

نووي، شرح النووي، 2 : 177

شارحِ صحیح مسلم امام نووی (م 676ھ) نے بھی اس حدیث کی تفصیلی شرح لکھی ہے۔ لا تُشَدُّ الرِّحال کا درست معنی و مفہوم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

اس حدیثِ مبارکہ میں ان تین مساجد کی فضیلت اور دنیا کی دیگر مساجد پر درجہ میں ان کی برتری کا بیان ہے کیونکہ یہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی مساجد ہیں اور اس وجہ سے کہ ان میں نماز پڑھنے کا ثواب اور فضیلت زیادہ ہے۔

نووي، شرح صحيح مسلم، 9 : 106

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ بعض علماء نے ان مساجد کے علاوہ قبورِ صالحین پر جانے میں الگ الگ آراء کا اظہار کیا ہے :

ہمارے اصحاب (یعنی شوافع) کے نزدیک صحیح مؤقف یہ ہے جسے امام الحرمین (ابو المعالی عبد الملک الجوینی) اور دیگر محققین ائمہ نے اختیار کیا وہ یہ کہ زیارتِ قبور حرام ہے نہ مکروہ، انہوں نے کہا اس حدیث کا صحیح مطلب یہ ہے کہ ثواب کے لیے سفر اختیار کرنے میں مکمل فضیلت ان تین مساجد کے ساتھ خاص ہے۔

نووي، شرح صحيح مسلم، 9 : 106

ایک اور جگہ انہوں نے لکھا ہے :

اس حدیث میں ان مساجد کی فضیلت اور اس کی طرف سفر کی فضیلت کا بیان ہے اسی لیے جمہور ائمہ کے نزدیک ان مساجد کے علاوہ دوسری مساجد کی طرف رختِ سفر باندھنے میں کوئی فضیلت نہیں۔

نووي، شرح صحيح مسلم، 9 : 168

1. مسجد الحرام میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔

2. مسجدِ نبوی میں ایک نماز کا ثواب پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے۔

3. مسجدِ اقصیٰ میں ایک نماز کا ثواب پچیس ہزار نمازوں کے برابر ہے۔

دنیا کی دیگر مساجد کو یہ فضیلت حاصل نہیں تو حدیثِ مبارکہ کا صاف مطلب یہ ہوا کہ اگر ایک شخص کو اپنے محلہ اور آبادی کی مسجد میں وہی ثواب ملے گا جو دنیا کی دیگر مساجد میں ملتا ہے تو اس تصور کے ساتھ کہ شاید فلاں مسجد میں اس مسجد سے زیادہ ثواب ملے گا سفر کرنا بے فائدہ ہے۔ اگر ادائیگی نماز کا زیادہ ثواب حاصل کرنے کا ارادہ ہو تو پھر حدیث میں مذکورہ مقامات کی طرف ہی سفر کرے اور جہاں تک مطلقًا سفر کی بات ہے تو ائمہ حدیث اور فقہاء کے صحیح اقوال اور تشریحات سے ثابت ہوا کہ جائز ہے عام سفر کی کہیں بھی ممانعت اور حرمت نہیں۔

8 نے پوچھا
حضرت خضر علیہ السلام نے ایک بچے کو قتل کر دیا تھا ۔ کیا اس واقعے کو دلیل بنا کر آج کسی مسلمان کے لئے جائز ہے کہ وہ مناسب سمجھے تو کسی بچے کو قتل کر دے
Asked: 08th May, 13 | Answered: 08th May, 13 الجواب
حضرت خضر علیہ السلام نے ایک بچے کو قتل کر دیا تھا ۔ کیا اس واقعے کو دلیل بنا کر آج کسی مسلمان کے لئے جائز ہے کہ وہ مناسب سمجھے تو کسی بچے کو قتل کر دے

7 نے پوچھا
حضرت خضر علیہ السلام نے ایک بچے کو قتل کر دیا تھا ۔ کیا اس واقعے کو دلیل بنا کر آج کسی مسلمان کے لئے جائز ہے کہ وہ مناسب سمجھے تو کسی بچے کو قتل کر دے
Asked: 08th May, 13 | Answered: 08th May, 13 الجواب
حضرت خضر علیہ السلام نے ایک بچے کو قتل کر دیا تھا ۔ کیا اس واقعے کو دلیل بنا کر آج کسی مسلمان کے لئے جائز ہے کہ وہ مناسب سمجھے تو کسی بچے کو قتل کر دے

6 نے پوچھا
حضرت خضر علیہ السلام نے ایک بچے کو قتل کر دیا تھا ۔ کیا اس واقعے کو دلیل بنا کر آج کسی مسلمان کے لئے جائز ہے کہ وہ مناسب سمجھے تو کسی بچے کو قتل کر دے
Asked: 08th May, 13 | Answered: 08th May, 13 الجواب
حضرت خضر علیہ السلام نے ایک بچے کو قتل کر دیا تھا ۔ کیا اس واقعے کو دلیل بنا کر آج کسی مسلمان کے لئے جائز ہے کہ وہ مناسب سمجھے تو کسی بچے کو قتل کر دے

5 نے پوچھا
حضرت خضر علیہ السلام نے ایک بچے کو قتل کر دیا تھا ۔ کیا اس واقعے کو دلیل بنا کر آج کسی مسلمان کے لئے جائز ہے کہ وہ مناسب سمجھے تو کسی بچے کو قتل کر دے
Asked: 08th May, 13 | Answered: 08th May, 13 الجواب
حضرت خضر علیہ السلام نے ایک بچے کو قتل کر دیا تھا ۔ کیا اس واقعے کو دلیل بنا کر آج کسی مسلمان کے لئے جائز ہے کہ وہ مناسب سمجھے تو کسی بچے کو قتل کر دے

admin نے پوچھا
وہ بچہ انتہائی خطرناک تھا حتى کہ خدشہ تھا کہ اسکی وجہ سے اسکے والدین بھی کافر ہو جائیں گے
Asked: 07th May, 13 | Answered: 07th May, 13 الجواب
وہ بچہ انتہائی خطرناک تھا حتى کہ خدشہ تھا کہ اسکی وجہ سے اسکے والدین بھی کافر ہو جائیں گے

پاک سر زمین شاد باد نے پوچھا
پاک سر زمین شاد باد
Asked: 07th May, 13 | Answered: 07th May, 13 الجواب
حضرت خضر علیہ السلام نے ایک بچے کو قتل کر دیا تھا ۔ کیا اس واقعے کو دلیل بنا کر آج کسی مسلمان کے لئے جائز ہے کہ وہ مناسب سمجھے تو کسی بچے کو قتل کر دے

ممتاز نے پوچھا
حضرت خضر علیہ السلام نے ایک بچے کو قتل کر دیا تھا ۔ کیا اس واقعے کو دلیل بنا کر آج کسی مسلمان کے لئے جائز ہے کہ وہ مناسب سمجھے تو کسی بچے کو قتل کر دے
Asked: 07th May, 13 | Answered: 07th May, 13 الجواب
خضر علیہ السلام نے دو وجوہات کی بناء پر اس بچہ کو قتل کیا تھا

۱۔ اللہ کا حکم تھا اس خاص بچہ سے متعلق

۲۔ وہ بچہ انتہائی خطرناک تھا حتى کہ خدشہ تھا کہ اسکی وجہ سے اسکے والدین بھی کافر ہو جائیں گے ۔

وَأَمَّا الْغُلَامُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ فَخَشِينَا أَنْ يُرْهِقَهُمَا طُغْيَانًا وَكُفْرًا (80) فَأَرَدْنَا أَنْ يُبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِنْهُ زَكَاةً وَأَقْرَبَ رُحْمًا (81)

جبکہ یہ دونوں صورتیں آج پیدا ہی نہیں ھوسکتیں !!

کیونکہ

یہ دونوں کام وحی پر موقوف ہیں اور آج وحی بند ہے !